اشکوں کے چراغ — Page 407
407 گھومتا پھرتا رہے ہے قیس دن بھر گاؤں میں اس کا بنگلہ شہر میں ہے اور دفتر گاؤں میں شہر اس کو دیکھتے کے دیکھتے رہ جائیں گے وہ چلا جائے گا تصویریں دکھا کر گاؤں میں پر لڑکیاں ہنسنے لگیں اس کی پھٹی پتلون شہر کے لڑکے کا اب جینا ہے دوبھر گاؤں میں رونگٹے جس سے کھڑے ہو جائیں اہل شہر کے ہم نے ان آنکھوں سے دیکھا ہے وہ منظر گاؤں میں اب وہ اس چکر میں ہے کہ ابتدا کس سے کرے ایک کافر شہر میں ہے، ایک کافر گاؤں میں شہر کی سڑکوں پہ جو منڈلا رہے ہیں ان دنوں اُڑ رہے تھے کل یہی اجلے کبوتر گاؤں میں صبح تک ہوتی رہی آواز کی جنگ عظیم رات بھر لڑتے رہے لفظوں کے لشکر گاؤں میں