اشکوں کے چراغ — Page 406
406 وہ دل میں آکے نہ ٹھہریں، کبھی گزر تو کریں غریب شہر کے حالات پر نظر تو کریں بلا سے قافلے والے قدم شناس نہیں علاج دوری منزل کا راہبر تو کریں تمھارا اسم بھی ہو جائے گا دلوں پر نقش تمھارے اسم کی تکرار عمر بھر تو کریں سکر پکارے گی، تارے کریں گے سرگوشی فصیل ہجر کے سائے میں شب بسر تو کریں گھڑی قبول کی بھی آئے گی کبھی نہ کبھی صدائے نالہ و واویلا تا سحر تو کریں وہ ہم سے ملنے کو آئیں گے خود بخود مضطر ! حریم ناز میں جا کر انھیں خبر تو کریں