اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 391 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 391

391 یوں تو کرنے کو احتیاط بھی کی ان کو چاہا بھی، ان سے بات بھی کی سر اوج سناں حیات بھی کی ان کی بیعت سر فرات بھی کی دور ان سے رہے ہزاروں سال زندگی ان کے ساتھ ساتھ بھی کی لمحہ لمحہ گنا فراق کا دن چاند نکلا تو چاند رات بھی کی سجدہ گاہوں کو کر دیا سیراب اشک در اشک شب برات بھی کی چڑھ گئے مسکرا کے سولی پر جسم اور جاں کی بازی مات بھی کی ان کہی کو بھی کہہ دیا منہ پر ساتھ اُمید التفات بھی کی