اشکوں کے چراغ — Page 385
385 نذر غالب کوئی کلاہ نہ کوئی لبادہ رکھتے ہیں سفر نصیب ہیں، احرام سادہ رکھتے ہیں سلگ رہے ہیں جوان منجمد پہاڑوں پر یہ پھول آگ ہیں، جلنے کا مادہ رکھتے ہیں ہمیں بتاؤ ملاقات کا طریقہ بھی کہ اس سے ملنے کا ہم بھی ارادہ رکھتے ہیں ہمارے ہاں تو حکومت فقط اسی کی ہے نہ کوئی شاہ، نہ ہم شاہزادہ رکھتے ہیں ہم اس کے نام پہ خلقت میں بانٹنے کے لیے قبول ہو تو بدن کا برادہ رکھتے ہیں اگر وہ ہے تو اسے چاہیے کہ بولے بھی اگر چہ ”ہم تو توقع زیادہ رکھتے ہیں“ اصل لفظ مادہ ہے۔