اشکوں کے چراغ — Page 361
361 استعارہ نہیں حقیقت ہے یہ وہ خود مر گیا، اس کو مارا نہیں ہے ہے یہ سب اس کے اپنے کیے کی سزا ہے قصور اس میں ہرگز ہمارا نہیں ہے وہ تمہار غفار بھی ہے عزیزو! پکارو اسے گر گر پکارا نہیں ہے دکھایا ہے ہیبت کے ساتھ اس نے چہرہ سوا اس کے اب کوئی چارہ نہیں ہے کر وعرضِ حال اس سے تنہائیوں میں وہ سب کا ہے تنہا ہمارا نہیں ہے وہی بے سہاروں کا ہے اک سہارا سوا اس کے کوئی سہارا نہیں ہے یہ سارا قصور آپ کی آنکھ کا ہے اگر اب بھی حق آشکارا نہیں ہے