اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 360 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 360

360 پتھر اٹھائیے ، کوئی دشنام دیجیے مجرم ہوں جرمِ عشق کا، انعام دیجیے یہ کیا کہ چھپ کے عشق کا الزام دیجیے دینی ہے جو سزا بھی سرِ عام دیجیے اتنی بھی احتیاط نہ کیجے۔نعرہ لگائیے، کوئی پیغام دیجیے زہر غم حیات بھی پینے کی چیز ہے سقراط ہوں تو زندگی کا جام دیجیے میں بھی لکھوں فراق کے قصے کتاب میں بے کار پھر رہا ہوں ، کوئی کام دیجیے پہلے دل و دماغ کو پلکوں سے پونچھیے پھر آنسوؤں کا جامہ احرام دیجیے کر دیجیے گا، قتل پہ مضطر کے، دستخط کوئی تو کام آپ بھی انجام دیجیے (جون، ۱۹۸۸ء)