اشکوں کے چراغ — Page 351
351 مجھ کو بھی شفق شمار کر لے سورج مجھے ہم کنار کر لے منصور ہوں آخری صدی کا سولی مرا انتظار کر لے صحرا کے سکوت سے نہ گھبرا جو نام بھی لے پکار کر لے خاک اور خون کا سمندر دن ڈھلنے سے پہلے پار کر لے شاید کوئی اس طرف سے گزرے دیوار کو سایہ دار کر لے اتنا بھی بڑھا نہ داستاں کو تو اختصار کر لے ہے تیخی آواز کو چھوڑ دے یہیں پر لفظوں کی خلیج پار کر لے