اشکوں کے چراغ — Page 335
335 ہونے کو وہ شوخ بہت مشہور ہوا جانے کیوں بالآخر نامنظور ہوا اشک جب الزام لگا عریانی کا فرط حیا سے اور بھی چکنا چور ہوا مٹتے مٹتے داغ مٹیں گے دامن کے چھینٹوں کا دور بہت بھر پور ہوا ننگ دھڑنگ اک ٹیلہ پیلے پتھر کا عشق کی آگ میں جل کر کوہِ طور ہوا دل بھی ایک عجائب گھر ہے یادوں کا جتنا پاس آیا اتنا ہی دور ہوا ނ آخر پتھر پگھلا ضبط تكلم کوہ ندا کا بن باسی مجبور ہوا اپنے جہل مرکب میں وہ سمجھتا ہے میرے قتل سے عند اللہ ماجور ہوا