اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 327 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 327

327 نذر آتش بصد ادب ر کھٹکھٹا رہا ہے قفس کا زمانہ کیا آہٹ کا جو اسیر تھا وہ بھی نہ مانا کیا در پتا کوئی ہلا تو پرنده لرز گیا شارخ نہالِ غم پہ کیا آشیانہ کیا مجھ کو یہ ڈر ہے تو کہیں ناراض ہو نہ جائے ان کو یہ خوف ہے کہ کہے گا زمانہ کیا اب ڈھونڈتے پھرو ہو عبث اپنے آپ کو آئے تھے شہر ذات میں تم فاتحانہ کیا جینا اگر محال تھا اس اثر دہام میں مرنے کا بھی نہ مل سکا تم کو بہانہ کیا عہدِ غم فراق کی جنگ عظیم میں دل بھی لڑے گا عقل کے شانہ بشانہ کیا فتووں کے لین دین پہ قدغن نہیں رہی حل ہو گیا یہ مسئلہ بھی تاجرانہ کیا