اشکوں کے چراغ — Page 326
326 مانگ تو لوں اس زُلف سے سایہ تھوڑا سا کہتے ہوئے ڈر لگتا ہے، انکار نہ ہو عشق اگر ہو عشق تو کیونکر ممکن ہے عشق تو ہو لیکن اس کا اظہار نہ ہو سر کے بل جاؤں اس پھول سے ملنے کو راہ میں خوشبو کی رنگیں دیوار نہ ہو ڈرتا ہوں میں یار کی طبع نازک پر پیار کا یہ اظہار بھی مضطر! بار نہ ہو