اشکوں کے چراغ — Page 310
310 پھسلنے کا اگر امکان ہوتا سنبھلنے کا بھی کچھ سامان ہوتا فقیہ شہر اگر انسان ہوتا تو اہل شہر پر احسان ہوتا سلیب شہر جھک کر بات کرتی اسیروں کو بھی اطمینان ہوتا زمیں پر رات بھر تارے برستے فلک پر جشن کا اعلان ہوتا جو آجاتا کبھی وہ دشت جاں میں یہیں پر مستقل مہمان ہوتا وہ آئینے سے مل کر مسکراتے اگر چہ اگر چہ آئنہ حیران ہوتا اگر پہچان لیتا مجھ کو قاتل میں اس کی، وہ مری پہچان ہوتا غم دوراں، غم جاناں، غم جاں کوئی تو زیست کا سامان ہوتا کوئی لہجہ تو ہوتا عرض فن کا غزل کا کوئی تو عنوان ہوتا اگر رونق نہ ہوتی منزلوں کی تو رستہ کس قدر ویران ہوتا تو جینا کس قدر آسان ہوتا اگر آسان ہوتا مسکرانا اگر ہوتا یقیں اس بے یقیں کو تو جھگڑا بر سر میدان ہوتا کوئی تو بات مضطر کی سمجھتا کوئی تو شہر میں انسان ہوتا