اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page xxxii of 679

اشکوں کے چراغ — Page xxxii

۲۹ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و سلامتی عطا فرمائے اور اپنا عبد بنائے اور حامی و ناصر ہو۔10۔6۔1989 تھا۔☆☆☆ آپ کا دلچسپ اور اداس خط ملا جس پر عبدالسلام اختر مرحوم کا یہ شعر صادق آ رہا یکھ اُفق پر گھٹا جو ہے اس میں کچھ اندھیرے ہیں، کچھ اجالے ہیں جو شعر آپ نے طبع نہیں کروائے اُن میں سے پہلے کو چھپارکھنے کا تو کوئی جواز ہی نہیں سوائے اس کے کہ یہ کہا جائے کہ " وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے ’ سائے کا ایسا انوکھا اور برمحل استعمال پہلے کبھی اردو ادب میں نہیں ہوا۔جن پریشانیوں کا آپ نے ذکر فرمایا ہے وہ میرے دل کو بھی لاحق ہوگئی ہیں۔انشاء اللہ مقدور بھر کوشش بھی کروں گا اور دعا بھی۔آپ سب کے حوصلے اور صبر پر حیرت زدہ ہوں۔یہاں الفاظ کی دلداری کام نہیں آتی۔دعا ہی ہے جو مقبول ہو جائے تو اعجاز دکھاتی ہے۔ورنہ دوا کی حد سے بھی بات بڑھی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔گذشتہ خط میں یاد نہیں بطور خاص ایک شعر کا ذکر کیا تھا یا نہیں۔اس کی چاندنی اب تک میرے دل کے آنگن پر پھیلی پڑی ہے۔شاعری ایسے حسن کی مایہ میں شاذ شاذ ہی دھلا کرتی ہے۔اترا تھا چاند شہر دل و جاں میں ایک بار اب تک ہیں آنگنوں میں اجالے پڑے ہوئے