اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 277 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 277

277 نہ ذکرِ دورئی منزل، نہ فکرِ جادہ کریں براہ عشق ہے ، طے اس کو پا پیادہ کریں بفیض ساقی کوثر مئے طہور پئیں نہ شیخ شہر سے الجھیں، نہ ترک بادہ کریں سفر طویل ہے، اہل سفر نہ گھبرائیں نظر بلند ، قدم تیز ، دل کشادہ کریں ہیں جس سے آج بھی اغیار لرزہ بر اندام اسی روایت کہنہ کا پھر اعادہ کریں یہ درس جس نے دیا تھا شہید زندہ ہیں، اسی مدرس اعلی سے استفادہ کریں بلا کشان محبت یہ بندگان حقیر پہاڑ پیں کے رکھ دیں اگر ارادہ کریں حدیث ان کے مقام بلند پر ہے گواہ حدیث جس کی روایت ابوقتادہ کریں