اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 257 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 257

257 صاحبزادہ مرزا غلام قادر صاحب کے راہ مولیٰ میں قربان ہونے پر اُن کے والد گرامی صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب سَلْمَهُ اللهُ تَعَالٰی کی زبان سے ڈھل گئی رات کوئی بات کرو بانٹنے آئیں گے میرے غم کو تجھ سے ملنے کے لیے آیا ہوں پونچھنا چاہیں گے چشم نم کو کاسئہ جاں کو لیے دینے آئیں گے محبت کا صلہ اشک بکف کرنے آئیں گے گلہ دست به دل کہ تجھے جانے کی چند لمحے جو ہیں تنہائی کے اتنی بھی جلدی کیا تھی ان کو غنیمت جانو اور ان سب کے احسان تلے دن چڑھے اور بھی جھک جائیں گے جوق در جوق چلے آئیں گے ناتواں کاندھے مرے سوگواروں کے ہجوم بچے اور بوڑھے ایسے محسوس کروں گا جیسے میں ہی زخمی نہیں غریب اور امیر چاہنے والے تیرے تیری الفت کے اسیر زخمی سب ہیں اور پھر کس کو نہیں ہے معلوم نرم گفتار تھا تو