اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 256 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 256

256 جس کی پلکوں پہ سجے ہوں گے وفا کے موتی جس کے سینے میں محبت کا خزینہ ہو گا آنے والے کے گلے لگ کے بلکنے والے! جانے والے نے ترا چین تو چھینا ہوگا تیری کرنوں کو اب اے عہد کے سچے سورج! ہجر کی رات کا یہ چاک بھی سینا ہو گا شربتِ وصل میں شامل ہے جو زہر فرقت ہے اگر عشق تو یہ زہر بھی پینا ہو گا ارض ربوہ! اسے سینے سے لگا کر رکھنا آبگینوں سے بھی نازک یہ دفینہ ہو گا حسن پھر اُترا ہے روحوں پر سکینت بن کر قافلہ پھر سے رواں سوئے مدینہ ہو گا یوں چڑھا ہے جو نئے عہد کا سورج بن کر خاتم یار کا یہ چوتھا نگینہ ہو گا اس کے دربار میں جاؤں گا خطائیں لے کر میرے ہمراہ ندامت کا پسینہ ہو گا کشتی نوح میں بیٹھے تو ہو لیکن مضطر! شرط یہ ہے یہیں مرنا، یہیں جینا ہو گا (۹/ جون ۱۹۸۲ء)