اشکوں کے چراغ — Page 252
252 عشق کے، درد کے، محبت کے قرض جتنے تھے سب اُتار گیا اپنے اک دلربا تبسم سے میری بگڑی ہوئی سنوار گیا ز ہے اس کی حیات ، اس کی ممات کامیاب آیا، کامگار گیا اپنے بھائی کو چھوڑ کر تنہا بھائی کا غمگسار گیا وہ بغیر حساب کا مصداق مغفرت کا اُمیدوار گیا وقت رخصت بصد ہزار درود لے کر اشکوں کا میں بھی ہار گیا فرط غم سے نہ جانے کیوں مضطر! اس کے در پر میں بار بار گیا