اشکوں کے چراغ — Page xxix
۲۶ جس طرح بعض دفعہ صدمہ آنسوؤں میں نہیں ڈھلتا۔اسی طرح یہ مضمون کسی سے شعر میں نہیں ڈھل سکا۔جو آنسو صدمہ پر نہیں نکل سکا وہ اتنا خوبصورت شعر کا موتی بن کر نکلا ہے تو پھر آپ کو کیا شکوہ ہے۔شعروں کے آئینہ میں آپ سے جو ملاقات ہوتی ہے وہ بہت پر لطف ہوتی ہے۔اسی لیے بڑے شوق سے آپ کی نظموں کا مطالعہ کرتا ہوں اور انہیں پڑھنے کا انتظار رہتا ہے۔گزشتہ دنوں جب الفضل میں اوپر تلے آپ کی کئی نظمیں شائع ہوئیں تو انہیں پڑھ کر بہت لطف آیا اور کئی پسندیدہ شعروں میں قلم سے نشان لگا کر غائبانہ داد دیئے بغیر نہ رہ سکا۔اللہ آپ کی صلاحیتوں کو مزید نکھار عطا فرمائے اور خوشیوں سے معمور فعال لمبی زندگی عطا فرمائے۔خدا حافظ و ناصر ہو۔لندن /29۔5۔98 ☆☆☆ آپ کی سب نظمیں ماشاء اللہ آسمانِ ادب کی رفعتوں کو چھوتی ہیں اور ایک آپ ہیں کہ جن کا شاید ہی کوئی ایسا کلام ہو جس میں مجھے کوئی نہ کوئی خاص بات دکھائی نہ دیتی ہو ور نہ چوٹی کے شعراء کے کلام میں سے بھی مجھے رطب و یابس کے انبار سے اچھا کلام ڈھونڈنا پڑتا ہے۔الفضل کے 19 مئی کے شمارہ میں آپ کی جو پنجابی نظم چھپی ہے اس کا معیار بھی بہت اعلیٰ ہے۔پنجابی نظمیں پڑھنے میں کچھ دشواریاں ہوتی ہیں جو بعض دفعہ یہ احساس دلاتی ہیں کہ وزن ٹوٹ گیا ہے جبکہ شاعر خود پڑھنے کے انداز سے ہی اس ستم کو دور کر دیا کرتے ہیں۔اس نظم میں بھی ایسی کئی جگہیں میرے لیے دشواری کا موجب بنی ہیں اور کچھ پنجابی محاوروں سے اپنی لاعلمی کا اعتراف بھی کرنا پڑا مثلاً آخری سے پہلے جو شعر ہیں۔