اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page xxviii of 679

اشکوں کے چراغ — Page xxviii

۲۵ ☆☆☆ یہ کہنا چاہتے ہوں گے۔لندن /1993/ہش 25۔2۔1372 آپ کی ہر غزل ہی ماشاء اللہ آسمان شعر پر ایک اور روشن ستارہ طلوع کرتی ہے مگر بعض ستارے دوسروں سے روشن تر ہوتے ہیں۔سادگی کے ساتھ پر کاری کا لفظ تو آپ پر سجتا نہیں۔کیونکہ پُر کاری میں کچھ فریب کے معنی پائے جاتے ہیں جبکہ نہ آپ کو پُر کاری آتی ہے نہ ادا کاری ، ہاں جانکاری ضرور آپ کی غزلوں میں دکھائی دیتی ہے۔چنانچہ 2 فروری 1992ء کے الفضل میں شائع ہونے والی آپ کی غزل ساری ہی بڑی رواں اور اثر انگیز ہے اور یہ شعر تو کیا خوب ہے۔گلشن کا نہ تھا قصور اس میں موسم ہی نہیں بدل رہا تھا آپ نے کمال کر دیا ہے۔گلشن اور موسم کے تعلق میں ایسا مضمون پہلے کبھی نہیں سنا۔سب نے بدلتے موسموں کی بات کی ہے۔موسم نہ بدلنے کا مضمون پہلی دفعہ پیش ہوا ہے۔یہ شعر بھی بہت عمدہ ہے۔جنت کا شجر تھا اور اس کے سائے میں گناہ پک رہا تھا درخت کے سائے بیٹھے ہوئے ہیولے دکھائی دینے لگے۔اسی طرح یہ شعر پڑھ کر بھی بڑا لطف آیا۔اس میں آپ نے ایک عام تجربہ کی بات کی ہے لیکن شاید ہی کسی نے اس کو اس رنگ میں بیان کیا ہو۔رونا تو وہ چاہتا تھا لیکن آنسو ہی نہیں نکل رہا تھا