اشکوں کے چراغ — Page 235
235 ذکر رخسار و چشم و و لب که کیا ہے آخر اس ذکر کا سبب کیا ہے خود فروشی خود فراموشی ہے خواہش دید بے طلب کیا ہے تیرے حسن تمام کا ہے ذکر شعر کیا چیز ہے، ادب کیا ہے ل تجھے چاہتا ہے، پکارتا ہے دل کا بیمار جاں بلب کیا ہے آج انسان بے قرار ہے کیوں بے کلی سی یہ بے سبب کیا ہے یہ نتیجہ ہے تجھ سے دُوری کا ورنہ کیا ہے عجم ، عرب کیا ہے مُطَّلَى ملی ، قريت مطلى کیا حسب ہے ترا ، نسب کیا ہے! مدنی“ پڑھا جائے