اشکوں کے چراغ — Page 234
234 تو کہیں اس سے ڈر رہا تو نہیں واعظ شہر ہے، خدا تو نہیں ایک ہی خاندان کے ہیں فرد آئے آنکھ سے جدا تو نہیں اپنی مرضی سے بات کرتا ہے اشک ہر وقت بولتا تو نہیں جی میں جو آئے کر گزرتا ہے دل نادان سوچتا تو نہیں اس بُرے سے بھی کوئی بات کرو بُرا اس قدر بُرا تو نہیں اس سے آگے ہے وقت کی سرحد اس سے آگے کوئی گیا تو نہیں عنایت ہے آپ کی، ورنہ ذکر اس میں ہمارا تھا تو نہیں عیب ہیں مجھ میں سینکڑوں مضطر! آدمی ہوں میں دیوتا تو نہیں