اشکوں کے چراغ — Page 219
219 سحر نصیب ہے، کچی دعاؤں جیسا ہے وہ دیوتا تو نہیں، دیوتاؤں جیسا ہے ملا تو کرتا ہے تصویر بن کے خوابوں میں وہ اجنبی ہے مگر آشناؤں جیسا ہے نہ پان بیڑی، نہ سگرٹ ، نہ جھوٹ کی عادت یه شخص شہر میں رہ کر بھی گاؤں جیسا ہے رُکے تو عین اذیت، چلے تو بادِ مراد ہمارا اس کا تعلق ہواؤں جیسا ہے خدا کرے کہ سلامت رہیں حسین اس کے یہ شہر جیسا بھی ہے کر بلاؤں جیسا ہے بنام ترک تعلق، به فیض شام فراق نہ شہر شہر، نہ اب گاؤں گاؤں جیسا ہے عجب نہیں کہ تجھے چھوڑ کر چلا جائے وہ باوفا ہے مگر بے وفاؤں جیسا ہے