اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 197 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 197

197 اٹھتے اٹھتے اٹھے نقاب بہت ہو گیا کوئی بے حجاب بہت شرم سے ہے وہ آب آب بہت اس کو اتنا بھی ہے عذاب بہت بخش دے تو مجھے بغیر حساب مجھ کو اتنا بھی ہے حساب بہت ب غفلت سے جاگ ، آنکھیں کھول آ گیا سر پہ آفتاب بہت ایک دل تھا کہ مطمئن نہ ہوا یوں تو میں نے دیے جواب بہت کچھ تمھارا سوال بھی تھا غلط ہو گیا وہ بھی لاجواب بہت میرے ہمزاد نے کہا مجھ سے ” میں کروں گا تجھے خراب بہت 66