اشکوں کے چراغ — Page 196
196 چین کی بھیک مانگنے کے لیے جانے کس کس کے گھر گیا ہو گا دن چڑھے آنکھ کھل گئی ہو گی سارا نشہ اتر گیا ہو گا اس کو دیکھے ہوئے سیر اخبار اک زمانہ گزر گیا ہو گا لوگ جاتے ہیں اپنی مرضی وه برنگ دگر گیا ہو گا جس کڑے دن کا ذکر کرتے ہو بھی آخر گزر گیا ہو گا وہ آؤ مقتل کی سیر کر آئیں کچھ تو موسم نکھر گیا ہو گا خشک پتوں کی طرح بالآخر وہ خلا میں بکھر گیا ہو گا خون ناحق سے ہی سہی مضطر! اس کا دامن تو بھر گیا ہو گا