اشکوں کے چراغ — Page 186
186 کچھ لوگ رہن چشمه آب بقا ہوئے اور کچھ فریب بادہ و ساغر میں آ گئے دو ہر روز روز عید ہے ، ہر شب شب برات محفل سے اٹھے کوچۂ دلبر میں آ گئے ذرات کی برہنگی کی تاب تھی کسے ذرے جلے تو چاند بھی چکر میں آ گئے چهره الفاظ دکھا دے شاہد معنی! قریب آ زلف معنبر میں آ گئے دام اب بوالہوس غریب کرے بھی تو کیا کرے جو حادثے تھے دامن مضطر میں آ گئے