اشکوں کے چراغ — Page 185
185 آنسو اُبل کے دیدہ مضطر میں آ گئے دستک دیے بغیر بھرے گھر میں آ گئے لذت ہمیں نصیب ہوئی انتظار کی انعام سب ہمارے مقدر میں آ گئے آنسو گرا تو سوچ کا سینہ لرز گیا طوفان آہٹوں کے سمندر میں آ گئے ہنگام ذبیح عمر گزشتہ کے واقعات ایک ایک کر کے ذہن کبوتر میں آ گئے خواب سحر سے جاگ بھی نادان ! آنکھ کھول سورج پکھل کے جام گل تر میں آ گئے پرده اُٹھا تو عقل کا چہرہ اُتر گیا لاکھوں شگاف ذہن کی چادر میں آ گئے اصل شهود و شاہد و مشہور ایک ہے“ کیوں مشاہدات کے چکر میں آ گئے