اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 119 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 119

119 بند جب سے ہوئی ہے گفت و شنید خطرہ ہجر ہے : خواہش دید دو حریفوں کو جا کے اب یہ نوید ” ہم کو ان سے وفا کی ہے اُمید جو نہیں جانتے وفا کیا ہے حادثہ دل کا جب ہوا ہو گا تو بھی حیران رہ گیا ہو گا اب پشیمانیوں سے کیا ہو گا ”ہاں بھلا کر، ترا بھلا ہو گا اور درویش کی صدا کیا ہے“ دشمنوں سے بھی پیار کرتا ہوں شکر ہوں پروردگار کرتا کچھ تو اے میرے یار! کرتا ہوں ”جان تم پر نثار کرتا نثار کرتا ہوں میں نہیں جانتا دعا کیا ہے 66 ہو منجملہ اہل دیں غالب و زابد و متیں غالب شیخ کے بھی کے بھی ہو ہم نشیں غالب ”ہم نے مانا کہ کچھ نہیں غالب مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے