اشکوں کے چراغ — Page 98
98 98 پھر کہیں دل میں ہوک سی اٹھی پھر کسی آرزو نے رحلت کی بارہا دل کے فیصلے بدلے یعنی توہین کی عدالت کی دل ہی دل میں ہوں اس سے شرمندہ یہ جو افتاد ہے طبیعت کی رات گزری پلک جھپکتے میں مسکرائی سحر صداقت کی کھل رہے ہیں قفس کے دروازے ڈھے رہی ہے فصیل نفرت کی فوج در فوج آ رہے ہیں لوگ اوڑھ کر چادریں محبت کی ہر طرف کھیل رہے ہیں پھول ہی پھول چل رہی ہے نسیم رحمت کی جو دعا کیجیے قبول ہے آج ( یکم فروری ، ۱۹۹۸ء)