اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 66 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 66

بادل کے بھنور ابر کی ریش دراز پیر فرتوت کی ڈھیلی دستار 99 66 اداسی کے ہجوم خواہش کے پہاڑ منجمد ہونٹوں سے اب یاد کے بگلے، تصویر کے پرند روک دو سیلاب سکوت چشم تحیر کے سوال جیسے بچپن کے خیال شور گمنام میں کھو جائیں ٹھہری ہوئی ٹھٹھری ہوئی من وتو کےسوال منجمد نیند کی جھیل سایہ ماہ میں مرمریں رات کی دوشیزہ ہنسی پروان چڑھے طور امید کے ٹھنڈے شعلے صبح سفید جیسے مجبور کے چہرے پر تبسم کا غلاف وقت کا احساس مٹے رات کئے لفظوں کا لحاف کتنی خاموشی ہے، تنہائی ہے باغ فردوس میں نغموں کی گھٹا برسی ہے بس وہی کوشش گفتار شدت غم سے گرانبار ہے آغوش سحاب وہی جنبش لب تھک گئے نور کے احساس سے رات لمبی ہے کوئی بات کرو اشجار کے ننگے بازو سو گئے برف کے پردوں میں دور مت بیٹھو قریب آجاؤ