اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 65 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 65

65 59 برف کتنی خاموشی ہے تنہائی ہے وادگی قاف میں پریوں کا نزول رات لمبی ہے کوئی بات کرو یا دا نام کے کنواب لچھوں کا خرام دور مت بیٹھو، قریب آجاؤ قلہ کوہ پر اترا ہے کہستاں کا غرور سرما کا سرور شام کی گود میں پھر رونے لگی با دشمال جیسے کا فور کی شمع کا شفاف دھواں جم گیا برف کے انفاس سے بادل کا ضمیر وادی نور کے اجلے سائے چاند کی شمع ہے دھندلائی ہوئی چاندنی رات کے گورے سپنے رات مدہوش، کفن پوش خموش صلح کے ایلچی ، سرما کے سوار برف کے گالے زمستاں کے سفیر قطب شمالی کے کنول دودھیا جسم، تمنا کے اسیر کو ہساروں کی کنواری کلیاں پہنے ہوئے اُجلے سماوی ملبوس خندہ ماہ کے پھول بےصدا خوف کے گھوڑوں پر سوار چاند کے ٹکڑے،گھٹاکے فانوس یوں دبے پاؤں گریزاں، ترساں سدرہ وطوبی کے خاموش طیور غول کے غول فضا سے اُترے بال جبریل کے پاکیزہ خطوط جیسے تنہائی میں آہٹ کی صدا جیسے بڑاق کے پر