تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 40 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 40

40 ☆ ۱۲۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب۔۔۔۔۔۔سیالکوٹ ولادت : ۱۸۵۸ء۔بیعت : ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء۔وفات : ۱۱ را کتوبر ۱۹۰۵ء تعارف: حضرت مولوی عبدالکریم رضی اللہ عنہ ۱۸۵۸ء میں سیالکوٹ میں چوہدری محمد سلطان صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔آپ نے سیالکوٹ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔بورڈ سکول سیالکوٹ میں فارسی مدرس کے طور پر کام کیا۔آپ کے مضامین رسالہ انوار الاسلام“ اور ” الحق سیالکوٹ میں شائع ہوتے تھے۔عیسائیت کے منادوں سے مذاکرات کا آپ کو خاص ملکہ تھا۔آپ کبھی کبھی اردو، فارسی میں’’صافی مخلص سے شعر بھی کہتے تھے۔حضرت اقدس کی بیعت : ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء کو حضرت اقدس مسیح موعود کی بیعت کی۔رجسٹر بیعت اُولیٰ میں آپ کا بیعت نمبر ۴۳ ہے۔آپ کی والدہ حضرت حشمت بی بی صاحبہ کی بیعت ۷فروری ۱۸۹۲ء اور اہلیہ حضرت زینب بی بی صاحبہ کی بیعت بھی اسی روز کی ہے۔اس سے قبل سرسید احمد خاں کی تحریرات سے متاثر تھے۔۱۸۹۸ء میں سیالکوٹ چھوڑ کر قادیان تشریف لے آئے۔قادیان میں ہجرت کرنے کے بعد آپ حضرت اقدس کی تائید میں مضامین لکھنے کے علاوہ خطبات، نقار میراور لیکچرز بھی دیتے تھے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس ازالہ اوہام میں فرماتے ہیں: حبی فی اللہ مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی : مولوی صاحب اس عاجز کے یک رنگ دوست ہیں اور مجھ سے ایک کچی اور زندہ محبت رکھتے ہیں اور اپنے اوقات عزیز کا اکثر حصہ انہوں نے تائید دین کے لئے وقف کر رکھا ہے۔اُن کے بیان میں ایک اثر ڈالنے والا جوش ہے۔اخلاص کی برکت اور نورانیت اُن کے چہرہ سے ظاہر ہے میری تعلیم کی اکثر باتوں سے وہ متفق الرائے ہیں۔خویم مولوی نور دین صاحب کے انوار صحبت نے بہت سا نورانی اثر اُن کے دل پہ ڈالا ہے۔6 (ازالہ اوہام حصہ دوم روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۲۳) آسمانی فیصلہ ، آئینہ کمالات اسلام، سراج منیر، تحفہ قیصریہ، کتاب البریہ اور اس کے علاوہ ملفوظات میں متعدد جگہ اپنے مخلصین ، جلسہ میں شریک احباب، چندہ دہندگان، جلسہ ڈائمنڈ جوبلی اور پر امن جماعت کے ضمن میں ذکر فرمایا ہے۔خدمات دینیہ : حضرت اقدس کا اسلامی اصول کی فلاسفی والا مضمون جلسہ اعظم مذاہب عالم میں حضرت مولوی صاحب نے ہی پڑھ کر سنایا تھا۔اس کے علاوہ خطبہ الہامیہ کو دوران خطبہ ساتھ ساتھ لکھتے رہے اور اس کا ترجمہ بھی کیا۔حضرت اقدس کا لیکچر لاہور اور لیکچر سیالکوٹ جلسہ عام میں پڑھنے کی سعادت آپ کو حاصل ہوئی۔کتاب من الرحمن