تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page vi
ii نہیں کئے جاتے جو بچے کو عطاء کئے جاتے ہیں“۔شیخ علی حمزہ بن علی ملک الطوسی اپنی کتاب جواہر الاسرار میں جو ۸۴۰ ھ میں تالیف ہوئی تھی مہدی موعود کے بارے میں مندرجہ ذیل عبارت لکھتے ہیں ” در اربعین آمده است که خروج مهدی از قریه کدعه باشد - قال النبى صلى الله عليه وسلم يخرج المهدى من قرية يقال لها كد عة و يصدقه الله تعالى ويجمع اصحابه من اقصى البلاد على عدّة اهل بدر بثلاث مائة وثلاثة عشر رجالا و معه صحيفة مختومة (اى مطبوعة) فيها عدد اصحابه باسمائهم وبلاد هم و خلالهم یعنی مهدی اس گاؤں سے نکلے گا جس کا نام کدعہ ہے ( یہ نام در اصل قادیان کے نام کو معرب کیا ہوا ہے ) اور پھر فرمایا کہ خدا اس مہدی کی تصدیق کرے گا اور دور دور سے اس کے دوست جمع کرے گا جن کا شمار اہل بدر کے شمار سے برابر ہو گا یعنی تین سو تیرہ ہوں گے اور ان کے نام بقید مسکن و خصلت چھپی ہوئی کتاب میں درج ہوں گے۔اب ظاہر ہے کہ کسی شخص کو پہلے اس سے یہ اتفاق نہیں ہوا کہ وہ مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کرے اور اس کے پاس چھپی ہوئی کتاب ہو جس میں اس کے دوستوں کے نام ہوں لیکن میں پہلے اس سے بھی آئینہ کمالات اسلام میں تین سو تیرہ نام درج کر چکا ہوں اور اب دوبارہ اتمام حجت کے لئے تین سو تیرہ نام ذیل میں درج کرتا ہوں تا ہر ایک منصف سمجھ لے کہ یہ پیشگوئی بھی میرے ہی حق میں پوری ہوئی اور بموجب منشاء حدیث کے یہ بیان کر دینا پہلے سے ضروری ہے کہ یہ تمام اصحاب خصلت صدق وصفا ر کھتے ہیں اور حسب مراتب جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے بعض بعض سے محبت اور انقطاع الی اللہ اور سرگرمی دین میں سبقت لے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ سب کو اپنی رضا کی راہوں میں ثابت قدم کرے 6❝ ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 324-325) ۳۱۳ حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ نے ضمیمہ انجام آتھم کے تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا کا ذکر اس سے پہلے آئینہ کمالات اسلام میں بھی کیا ہے۔یہ وہ صدق سے بھری ہوئی روحیں ہیں جن کے بارہ میں آپ نے اللہ تعالیٰ کے خاص احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔میں اس بات کے اظہار اور اس کے شکر کے ادا کرنے کے بغیر نہیں رہ سکتا کہ خدا تعالیٰ کے فضل وکرم نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا۔میرے ساتھ تعلق اخوت پکڑنے والے اور اس سلسلہ میں داخل ہونے والے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے۔محبت اور اخلاص کے رنگ سے ایک عجیب طرز پر رنگین ہیں۔نہ میں نے اپنی محنت سے بلکہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص احسان سے یہ صدق سے بھری ہوئی روحیں مجھے عطا کی ہیں۔(فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 35)