تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 325 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 325

325 فرمایا ہے۔وفات اور اولاد : آپ حضرت اقدس کی زندگی میں ہی وفات پاگئے تھے۔آپ کی اولاد میں مکرم مرزا عبدالحق صاحب اور مکرم مرزا عبد الخالق صاحب تھے۔اور ایک بیٹی زینب بی بی صاحبہ ان میں سے صرف مرزا عبدالحق صاحب احمدی تھے آگے ان کی اولاد بیٹے اور بیٹیاں تھیں حضرت مولوی حبیب اللہ کی پوتی مکرمہ امۃ الرشید صاحبہ (اہلیہ چوہدری منور احمد صاحب) کے بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں ایک بیٹا مکرم عزیز محمد سعید واقف زندگی ہیں۔ماخذ : (۱) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱ (۲) کتاب البریہ روحا خزائن جلد ۱۳ (۳) صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام تقریر جلسہ سالانه ۱۹۶۴ء (۴) غیر مطبوعہ مقالہ ضلع جہلم کے صحابہ از ملک منور احمد احسان صاحب (۵) انٹرویو مکر مہ امتہ الرشید صاحبہ ومکرم چوہدری منور احمد صاحب دارالرحمت وسطی ربوہ۔تین صد تیرہ اصحاب صدق و وفا ( مکرم مسعود چوہدری صاحب) خلوص و مہر و الفت کے تھے مظہر تین سو تیرہ بلا شک جانثاری میں تھے بڑھ کر تین سو تیرہ مسیح موعود سے وہ والہانہ پیار کرتے تھے اسی خاطر ہوئے کنکر سے گوہر تین سو تیرہ ہجوم عاشقاں دیکھا مسیح خوش نوا کے گرد کہ جیسے چاند کے ہوں گرد اختر تین سو تیرہ اذان صبح کے پیکر، جمال شام کے عنوان گلستان مسیحا کے گلِ تر تین سو تیرہ شب تاریک میں چمکے مہ و انجم سے بھی بڑھ کر وہ جلووں سے مسیحا کے منور تین سو تیرہ فلک تو ایک سورج سے ہے نازاں اپنی قسمت پر زمیں پر ضوفشاں تھے مثل خاور تین سو تیرہ بلند و بالا مذہب کو کیا کردار سے اپنے تھے دُنیا میں حقائق کے دلاور تین سو تیرہ مسیحی آگہی سے علم کا پرچم کیا روشن تھے احساسات کی دُنیا کے زیور تین سو تیرہ سراپا انقلاب ان کو ہر اک ذی روح کہتا ہے تھے انسانوں کی دُنیا میں قلندر تین سو تیرہ جسے دیکھو وہ اپنی ذات میں اک انجمن ٹھہرا لکھا کے لائے تھے اعلیٰ مقدر تین سو تیرہ ہمیشہ ڈھال بن کر رہتے تھے وہ دین کی خاطر تھے بحر وحدتِ حق کے شناور تین سو تیرہ رہے گا نام زندہ جب تلک قائم ہے یہ دُنیا محبت اور اخوت کے تھے پیکر تین سو تیرہ نظیر ان کی نہیں ملتی کھنگال آئے جہاں سارا تھے قلب و روح کی منزل کے رہبر تین سو تیرہ رہیں گے کارنامے ان کے ہر تاریخ میں زندہ تھے عرشِ ذات پر مہر منور تین سو تیرہ سکوں مسعود مل جاتا ہے ان کے ذکر سے مجھ کو حقیقت میں تھے وہ مہدی کے دلبر تین سو تیرہ