تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 274 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 274

274 ☆ ۲۴۰۔حضرت سید ناصر شاہ صاحب اور سیر اوڑی کشمیر بیعت : ۱۸۹۱ء۔وفات: یکم جنوری ۱۹۳۶ء تعارف: حضرت سید ناصر شاہ رضی اللہ عنہ کو حضرت اقدس مسیح موعود کی خدمت میں براہین احمدیہ حصہ چہارم کی اشاعت کے زمانہ سے حاضری کی سعادت حاصل ہے۔آپ حضرت اقدس کی قبولیت دعا کے مجسم نشان تھے۔آپ ڈویژنل افسر گلگت کے دفتر میں اوورسئیر تھے۔آپ سید فضل شاہ ( یکے از ۳۱۳) کے برادر حقیقی تھے۔آپ نہایت وجیہہ اور خوش مزاج تھے۔بیعت : ایک دفعہ آپ کشمیر میں تھے کہ حج بیت اللہ کے ارادہ سے روپیہ جمع کیا۔حج کے لئے تیار تھے کہ آپ کو خواب میں بتلایا گیا کہ حضرت مسیح موعود کو آپ کی ضرورت ہے۔آپ نے ۱۸۹۱ء میں بیعت کی۔کتاب آسمانی فیصلہ میں آپ کا ذکر ہے۔قادیان آمد اور حضرت اقدس سے اخلاص کا تعلق : جب آپ قادیان تشریف لائے تو معلوم ہوا کہ نزول اسیح کا مسودہ تیار ہے۔مگر روپیہ نہ ہونے کی وجہ سے اشاعت التواء میں پڑی ہے۔آپ نے یہ سن کر اس وقت ڈیڑھ ہزار روپیہ جو آپ کے پاس موجود تھا۔حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کر دیا اور عرض کی کہ حضور میں کشمیر جا کر طباعت کے لئے باقی جس قدر روپیہ کی ضرورت ہے وہ بھی روانہ کر دوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کے متعلق ایک جگہ لکھا ہے: در حقیقت یہ نوجوان مخلص نہایت درجہ اخلاص رکھتا ہے اور قریب دو ہزار روپیہ کے یا زیادہ اس سے اپنی محبت کے جوش سے دے چکا ہے۔“ حضرت سید ناصر شاہ کا بیان ہے کہ یہ ان کے بارہ میں ہے ایک دفعہ حضرت مولا نا عبدالکریم صاحب نے آپ کی گردن میں ہاتھ ڈال کر فرمایا تھا۔شاہ صاحب، حضرت صاحب جس طرح آپ کے ساتھ محبت کرتے ہیں اسے دیکھ کر خدا کی قسم ہمیں تو رشک آتا ہے۔احکم قادیان ۱۰ را اگست ۱۹۰۲ء میں ذکر ہے۔جب شاہ صاحب حضرت اقدس کے پاؤں دبانے لگے تو حضرت اقدس نے فرمایا آپ بیٹھ جائیں۔شاہ صاحب دیر تک پاؤں دبانا چاہتے تھے حضور نے پھر فرمایا آپ بیٹھ جائیں۔الآمُرُ فَوق الادب شاہ صاحب شہ نشین کے اوپر بیٹھ گئے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : آسمانی فیصلہ میں جلسہ سالانہ کے شرکا ء اور کتاب البریہ میں اور پر امن جماعت کے ضمن حضرت اقدس نے ذکر کیا ہے۔وفات : آپ کی وفات یکم جنوری ۱۹۳۶ء کو ہوئی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہیں۔