تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 260 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 260

260 ☆ -۲۲۴۔حضرت منشی عطا محمد صاحب۔سیالکوٹ بیعت : ابتدائی زمانہ میں۔وفات : ۱۹۴۰ء تعارف: حضرت منشی عطا محمد رضی اللہ عنہ ولد شیخ نور محمد صاحب کلاه ساز سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔ڈاکٹر سرمحمد اقبال ( شاعر مشرق ) کے بڑے بھائی تھے۔علامہ موصوف کی اعلی تعلیم میں آپ نے پوری طرح سر پرستی کی۔آپ سب اوور سیئر کے طور پر ملازم تھے۔آپ کے والد صاحب ( جو ۱۹۰۵ ء تک احمدی رہے ہیں ) کا نام شیخ نور محمد کلاہ ساز سیالکوٹ کے نام سے تحفہ قیصریہ میں ۲۷۲ نمبر پر درج ہے۔بیعت: اس لئے آپ کی بیعت ابتدائی زمانہ کی ہے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : کتاب البریہ میں پُر امن جماعت کے ضمن میں آپ کا ذکر موجود ہے۔سراج منیر میں چندہ دہندگان میں بھی حضرت بابو عطا محمد صاحب سب اوورسیئر سیالکوٹ درج ہے۔وفات : آپ کی وفات ۱۹۴۰ء میں سیالکوٹ میں ہوئی۔حضرت بابوصاحب نے علامہ سرمحمد اقبال کی تعلیم کے لئے خاص جد و جہد کی۔اولاد: شیخ اعجاز احمد صاحب مرحوم معروف قانون دان اور وکیل آپ کا بیٹا ہے یہ خاندان کراچی میں منتقل ہو گیا۔شیخ صاحب کی وفات اور تدفین کراچی میں ہی ہوئی۔ان کی اولا د کراچی میں ہے۔ماخذ: (۱) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۳) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۴) مظلوم اقبال (۵) اپنا گریبان چاک از ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال۔☆ ۲۲۵۔جناب شیخ مولا بخش صاحب۔سیالکوٹ بیعت : یکم فروری ۱۸۹۲ء۔وفات : ۵/ نومبر ۱۹۳۳ء تعارف: شیخ مولا بخش رضی اللہ عنہ سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔آپ کے والد صاحب کا نام شیخ نبی بخش صاحب تھا۔آپ دو دروازہ سیالکوٹ میں بوٹ فروش تھے۔ابتداً اہلحدیث خیالات سے متاثر تھے۔سیالکوٹ کے بزرگان حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ، حضرت میر حامد شاہ صاحب نیز حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمی - رابطہ تھا اور یہ احباب شیخ صاحب کے ہاں اپنی آمد و رفت رکھتے تھے۔