تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 256
256 میں آپ کا ذکر مخلصین جلسہ ڈائمنڈ جوبلی اور چندہ دہندگان میں فرمایا ہے۔وفات : آپ کی وفات ۲۸ ستمبر ۱۹۰۹ء کو ہوئی۔ماخذ: (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۳) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۴) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۵) سیرۃ المہدی حصہ دوم صفحه ۲۵۱ (۶) تاریخ احمدیت جلدا (۷) سیرت المہدی جلد سوم۔☆ ۲۱۸۔عالم شاہ صاحب کھاریاں۔گجرات بیعت ابتدائی زمانہ میں تعارف و بیعت: عالم شاہ صاحب سید احمد شاہ صاحب کے چچا زاد بھائی تھے اور عمر میں ان سے بڑے تھے۔آپ حضرت مولوی فضل دین گکھاریاں کے ساتھ قادیان گئے اور بیعت کی۔آپ کی بیعت ابتدائی زمانہ کی ہے۔عالم شاہ صاحب کھاریاں کی مسجد میں امام تھے۔بیعت پر قائم نہ رہے کہ امامت نہ چھوٹ جائے بروایت ڈاکٹر سید محمد یوسف شاہ صاحب لالچ میں آگئے۔اس طرح آپ کا احمدیت سے کوئی تعلق نہ رہا۔ماخذ : (۱) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلدا (۲) بروایت مکرم سیدمحمد یحی خضر صاحب طفیل رو ڈلا ہور چھاؤنی۔۲۱۹۔حضرت مولوی شیر محمد صاحب ہو جن۔شاہپور بیعت ۲۰ ستمبر ۱۸۸۹ء تعارف: حضرت مولوی شیر محمد رضی اللہ عنہ کے والد صاحب کا نام غلام مصطفیٰ صاحب تھا۔آپ موضع بھن ضلع شاہپور کے رہنے والے تھے۔آپ کا پیشہ طبابت اور زمینداری تھا۔بیعت : آپ نے ۲۰ ستمبر ۱۸۸۹ء کو بیعت کی۔رجسٹر بیعت اولی میں آپ کا نام ۱۲۴ نمبر پر درج ہے۔حضرت حکیم مولوی شیر محمد حضرت حافظ عبدالعلی موضع عبدالرحمن ( ادرحمہ۔۔۔ناقل ) ضلع شاہپور اور حضرت مولانا شیر علی ( مترجم انگریزی قرآن شریف) کے چاتھے۔علی گڑھ کالج میں حافظ عبدالعلی صاحب کے ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔انہی کے توسط سے حضرت مولوی شیر علی صاحب نے احمدیت قبول کی تھی۔علاوہ طبابت کے حکیم صاحب بہت بلند پایہ عربی / فارسی کے عالم تھے۔آپ کی وفات عین جوانی کے عالم میں ہوئی۔