تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 250
250 یہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی برکت، قرآن کریم کی برکت اور نمازوں کی برکت ہے۔دو سال خوب پھل لگتا رہا۔جب تیسرے سال آپ تبدیل ہو کر گوجرانوالہ چلے گئے تو پھل لگنا بند ہو گیا۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے کتاب البریہ میں آپ کا ذکر پُر امن جماعت کے سلسلہ میں فرمایا ہے۔وفات : آپ کو اپنی وفات کی پہلے سے ہی خبر ہو چکی تھی چنانچہ آپ نے اپنی ڈائری میں لکھا:۔عمر پوری ہو گئی۔ہمارا زمانہ بہتر تھا۔روشن دین۔۲۷/ دسمبر ۱۹۲۸ء چنانچہ تھوڑے ہی عرصہ بعد آپ کی وفات ۲۳ جنوری ۱۹۲۹ء کو ہو گئی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین ہوئی۔اولاد: آپ کی اولاد میں میاں محمد بشیر صاحب چغتائی کا ذکر ملتا ہے۔ماخذ : (۱) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳(۲) مضمون ” حضرت با بوروشن دین صاحب سیالکوٹی * از مکرم میاں محمد بشیر صاحب چغتائی ( ابن حضرت با بوروشن دین صاحب سیالکوٹی ) الفضل ربوہ ۱۲ رفروری و ۱۵ فروری ۱۹۶۶ء۔۲۱۰۔حضرت حکیم فضل الہی صاحب۔لاہور بیعت:۹۳-۱۸۹۲ء۔وفات: ۸/اپریل ۱۹۰۶ء تعارف و بیعت حضرت اقدس : حضرت حکیم فضل الہی رضی اللہ عنہ لا ہور کے مقام ستھان کے رہنے والے تھے۔لاہور تاریخ احمدیت کے مطابق آپ کی بیعت ۹۳-۱۸۹۲ء کی ہے (صفحہ ۱۴۹)۔جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے ساتھ بات چیت چل رہی تھی تو احباب لاہور کی ایک انجمن جس کا نام انجمن فرقانیہ تھا، نے خوب کام کیا۔اس کے صدر حکیم فضل الہی صاحب ، سیکر ٹری منشی تاج الدین صاحب اور جائنٹ سیکرٹری میاں معراج الدین عمر صاحب تھے۔چونکہ پیر صاحب حیلے بہانے سے اس مقابلہ کو ٹال رہے تھے اور لاہور کی پبلک کو مغالطہ میں ڈال کر حضرت اقدس کے خلاف مشتعل کر رہے تھے۔اس لئے اس انجمن نے ان ایام میں متعد داشتہارات شائع کر کے لوگوں پر حقیقت حال کو واضح کیا تھا۔دینی خدمات : حضرت حکیم صاحب بڑے مخلص اور جانثار تھے مخالفین کے سامنے سینہ سپر رہے تھے۔مالی قربانی میں بھی حضرت حکیم صاحب پیش پیش رہا کرتے تھے۔تبلیغی پمفلٹوں کے خرچ میں ان کا کافی حصہ ہوتا تھا۔تحریکات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے۔آپ کا اعزاز : حضرت اقدس مسیح موعود کے زمانہ میں ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ء کو جب منارة المسیح کی بنیا درکھنے کا وقت آیا تو حضرت حکیم صاحب مرزا خدا بخش صاحب ، شیخ مولا بخش صاحب اور قاضی ضیاء الدین صاحب نے حضور کی خدمت میں درخواست کی کہ حضور آج مینارہ اسیح کی بنیاد رکھی جائے گی اگر حضور خود اپنے ہاتھ سے رکھیں تو بہت