تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 249 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 249

249 ☆ ۲۰۹۔حضرت منشی روشن دین صاحب۔ڈنڈوت جہلم بیعت: ۱۸۸۹ ء یا ۱۸۹۰ء۔وفات : ۱۹۲۸ء تعارف حضرت منشی روشن دین رضی اللہ عنہ سیالکوٹ شہر کے رہنے والے تھے۔آپ کے والد صاحب ٹھیکیدار تھے۔آپ کی ایک وسیع برادری تھی جس کے بیشتر افراد نہایت متمول تھے۔بیعت: زمانہ طفولیت ہی میں آپ کی والدہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا پھر جب والد صاحب بھی فوت ہو گئے تو تھوڑے ہی عرصہ بعد حضرت مولوی عبدالکریم سیالکوٹی آپ کے سر پرست، مربی اور استاد مقرر ہو گئے۔یہ تعلق اس حد تک بڑھا کہ اہالیان سیالکوٹ آپ کو اُن کا بیٹا سمجھنے لگے۔جب حضرت مولوی صاحب فوت ہوئے تو اس تعلق کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت خلیفہ امسیح الاول نے آپ کو بلا کر کہا جب میں زندہ ہوں تو آپ سمجھیں کہ مولوی عبد الکریم زندہ ہیں۔اپنے دو دوستوں کے ہمراہ تلاش روزگار کے لئے نکلے تو ایک انگریز افسر کے پیش ہوئے۔خدا تعالیٰ نے تینوں دوستوں کومختلف ریلوے اسٹیشنوں پر تعینات ہونے کا موقع فراہم کر دیا۔آپ کو ڈنڈوت کے اسٹیشن پر متعین کیا گیا۔بیعت اور اس کا پس منظر : اسٹیشن ماسٹر جو ہندو آریہ تھا ایک روز آپ کو شہر لے گیا شہر کے چکر کے دوران ایک جگہ آپ کو ٹھہرا کر وہ آریہ سماج میں گیا تھوڑی دیر بعد ایک اشتہار یا رسالہ آپ کو دے کر کہنے لگا۔بٹالہ ضلع گورداسپور میں ایک شخص مرزا غلام احمد نے مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔تم نے سنا ہے؟ آپ نے اشتہار اس سے لے کر حضرت مولوی عبدالکریم کی خدمت میں عریضہ اور اشتہار بھیج دیا۔نیز لکھا کہ اس جگہ پیاس نہیں بجھتی۔ان کا جواب آیا کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب نے جو نہایت متقی پرہیز گارانسان ہیں ایسا دعویٰ کیا ہے۔مولوی نورالدین جیسے نیک اور علامہ نے ان کو راستباز اور اپنے دعوئی میں سچا پا کر بیعت کرلی ہے اور اپنی بیعت کا بھی لکھا اور یہ بھی لکھا کہ آپ فوراً بذریعہ خط بیعت کر لیں۔چنانچہ آپ نے بھی حضرت اقدس کی خدمت میں بیعت کا خط لکھ دیا۔آپ فرماتے تھے کہ اس کے بعد اطمینان اور سکون میسر آ گیا اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کی رضا پر خوش رہتا۔آپ کا اخلاص : آپ جس اسٹیشن پر جاتے وہاں پھلدار پودوں کے باغ لگواتے۔ان باتوں کے سبب آپ کے اسٹیشن کو اول پوزیشن حاصل ہوتی۔بٹالہ کے اسٹیشن پر ایک آم کا پرانا درخت تھا جس کو کئی سالوں سے پھل نہیں لگتا تھا۔آپ نے اس باغ میں نماز کی جگہ بنائی۔یہاں علاوہ دیگر احباب جماعت کے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی اور آپ کے اہل وعیال بھی تشریف لاتے۔اس برکت سے اس آم کو پہلا پھل لگا۔باغ کا مالی جو۰ ۸ سال کے لگ بھگ تھا بڑا حیران تھا اور شہر میں دھوم مچ گئی۔کثرت سے لوگ دیکھنے آتے اور کہتے کہ یہ بابو صاحب کی برکت ہے لیکن آپ کہتے