تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 195 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 195

195 رضی اللہ عنہ ( یکے از ۳۱۳) کے ہاں ۲۳ جون ۱۸۸۱ء میں پیدا ہوئے اور اپنے والد گرامی کے ہمراہ ۱۸۸۹ء میں حضرت مسیح موعود کی بیعت سے مشرف ہوئے۔ابتدا جموں میں ملازم تھے۔ستمبر ۱۹۰۱ء میں ہجرت کر کے قادیان تشریف لے آئے۔محرر کی آسامی پر کام کرتے رہے۔حضرت اقدس کی صحبت میں رہنے کو سعادت سمجھتے تھے۔خدمات سلسلہ قادیان میں جب تعمیرات کے شعبے کا کام شروع ہوا تو آپ کو تعمیرات کا کام کرنے کی سعادت ملی اور آپ کو عظیم الشان عمارات بنوانے کا موقع ملا۔۱۹۴۷ء کے فسادات میں حضرت مسیح موعود کی قبر کی حفاظت آپ کے سپرد تھی۔ربوہ میں پانی آپ ہی کی زیر نگرانی بورنگ کے ذریعہ نکلا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے اس الہام کو پورا کرنے کا آپ کو وسیلہ بنایا کہ ھے پاؤں کے نیچے سے مرے پانی بہا دیا اس طرح مسجد مبارک ربوہ اور دفاتر صدر انجمن احمدیہ کی تعمیر کا کام آپ کی زیر نگرانی ہوا۔حضرت مصلح موعود نے آپ کے کاموں پر اظہار خوشنودی فرمایا۔اولاد: قاضی بشیر احمد۔قاضی عبدالسلام نیروبی والے ( دار الصدر شمالی)، قاضی منصور احمد اور قاضی مبارک احمد ہیں۔حضرت قاضی صاحب کی اولاد مختلف ممالک میں ہے جو احمدیت سے مخلصانہ تعلق رکھتی ہے۔حضرت قاضی عبدالرحیم کی ایک پوتی مکر مہ امتة الباسط صاحبہ بنت قاضی عبد السلام بھٹی ( زوجہ مولانا عطاء الکریم شاہد صاحب) ہیں۔وفات : آپ کا انتقال ربوہ میں ۲۹ اکتوبر ۱۹۵۳ء کو ہوا اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں قطعہ نمبر ۸ حصہ نمبر ۲۳ میں تدفین ہوئی۔ماخذ: (۱) اصحاب احمد جلد ششم صفحه ۲۱ (۲) مضمون حضرت قاضی عبدالرحیم صاحب ا ز الفضل ۱۷/ دسمبر ۱۹۹۹ء ☆ ۱۴۶۔حضرت شیخ کرم الہی صاحب کلرک ریلوے۔پٹیالہ ولادت : ۱۸۵۶ء۔بیعت : ۲۸ فروری ۱۸۹۰ء۔وفات : ۹/ جون ۱۹۵۳ء تعارف: حضرت شیخ کرم الہی صاحب رضی اللہ عنہ راجپورہ ریاست پٹیالہ میں ریلوے کے ریکارڈکلرک تھے۔آپ کے والد صاحب کا نام شیخ اللہ بخش صاحب تھا۔ولادت سال ۱۸۵۶ء کو ہوئی۔بیعت : آپ نے ۲۸ فروری ۱۸۹۰ء کو بیعت کی اور رجسٹر بیعت اولیٰ میں ۱۷۴ نمبر پر بیعت درج ہے۔جہاں آپ کا نام محمد کرم الہی صاحب ریکارڈ کلرک راجپورہ اسٹیشن ڈاک بنگلہ سرکا رکھا ہے۔ازالہ اوہام میں ذکر : حضرت اقدس فرماتے ہیں: بابو صاحب متانت شعار مخلص آدمی ہیں وہ اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں کہ اگر چہ آپ کے رسالوں کو پڑھنے کے بعد