تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 188
188 ۱۸۹۲ء کے جلسہ سالانہ کے مقاصد میں مطبع خانے کا قیام اور ایک اخبار کا اجراء بھی تھا۔مطبع کے لئے چندہ دینے والوں کی فہرست میں آپ نے دور و پیہ سالا نہ چند لکھوایا تھا۔ماخذ : (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ (۲) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد ۲ (۳) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۴) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۵) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۶) رجسٹر بیعت اولیٰ مندرجہ تاریخ احمدیت جلد اول (۷) اصحاب احمد جلد چہارم صفحہ ۹۔۲۷۔۲۸ ☆ ۱۳۶۔حضرت مولوی شہاب الدین صاحب غزنوی۔کابلی بیعت: ابتدائی زمانہ میں تعارف و بیعت : حضرت مولوی شہاب الدین غزنوی رضی اللہ عنہ کی بیعت ابتدائی زمانہ کی ہے۔مولوی عبدالستار خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید صاحب کے شاگرد براستہ ہندوستان حج کے لئے روانہ ہوئے۔جب دہلی پہنچے تو کسی شخص نے ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی اطلاع دی اور حضور کی بہت تعریف و توصیف کی۔آپ کے دل میں اشتیاق پیدا ہوا اور آپ قادیان آگئے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملے آپ کی باتیں سن کر اتنا متاثر ہوئے کہ انہوں نے حضور کی بیعت کر لی۔جب وہ اپنے ملک واپس جانے لگے تو حضرت مسیح موعود سے افغانستان کے امیر عبدالرحمن خان کے نام ایک تبلیغی خط لکھنے کی آرزو کی۔حضور نے پہلے تو فرمایا کہ وہ ایمان نہیں لائے گا لیکن اس شاگرد کے اصرار پر حضور نے انہیں ایک خط فارسی زبان میں لکھ دیا۔جب یہ شاگر د خوست پہنچے تو انہوں نے حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کو وہ خط دے دیا تو آپ نے فرمایا یہ بات تو سچی ہے اور یہ کلام ایک عظیم الشان کلام ہے لیکن امیر عبدالرحمن خان اتنی سمجھ نہیں رکھتا کہ وہ اسے سمجھ سکے اور ایمان لے آئے اسے یہ خط بھجوانا بے سود ہوگا۔یہ خط حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کے پاس پڑا رہا۔خیال ہے۔یہ وہی شاگرد ہیں جن کا نام مولوی شہاب الدین صاحب غزنوی کا بلی تھا۔۔نوٹ: مزید تفصیلی حالات دستیاب نہیں ہو سکے۔ماخذ : (۱) انجام آتھم روحانی خزائن جلدا (۲) شیخ عجم از سید میر مسعود احمد صاحب،(۳) خالدا کتوبر ۲۰۰۳ء