تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 173
173 آج آپ کی تار کے ذریعہ یکدفعہ غم کی خبریعنی واقعہ وفات عزیز ی سیٹھ احمد صاحب کی بیوی کاسن کر دل کو بہت غم اور صدمہ پہنچا انا للہ و انا الیه راجعون۔دنیا کی نا پائیداری اور بے ثباتی کا یہ نمونہ ہے کہ ابھی تھوڑے دن گزرے ہیں کہ عزیز موصوف کی اس شادی کا اہتمام ہوا تھا اور آج وہ مرحومہ قبر میں ہے۔اللہ تعالیٰ صبر جمیل عطا فرمائے اور نعم البدل عطا کرے اور عزیز سیٹھ احمد صاحب کی عمر لمبی کرے آمین ثم آمین اس خبر کے پہونچنے پر ظہر کی نماز میں جنازہ پڑھایا گیا اور نماز میں مرحومہ کی مغفرت کے لئے بہت دعا کی گئی۔“ پھر ایک اور خط میں آپ نے تحریر فرمایا :۔”خداوند تعالیٰ عزیزی سیٹھ احمد کی عمر دراز کرے اور اس کی عوض میں بہتر صورت عطا فرمائے۔۔۔مناسب ہے کہ اب کی دفعہ ایسے خاندان سے رشتہ نہ کریں جن میں یہ بیماری ہے حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت سیٹھ احمد کا ذکر کتاب البریہ میں پر امن جماعت کے ضمن میں ہے۔ماخذ: (۱) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلدا ۱ (۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد۱۳ (۳) مکتوبات احمد یہ ☆ ۱۱۹۔حضرت سیٹھ صالح محمد صاحب حاجی اللہ رکھا تا جر مدراس بیعت : ۱۸۹۲ء تعارف و بیعت : حضرت سیٹھ صالح محمد رضی اللہ عنہ کا تعلق بھی مدر اس کے تاجر خاندان سے ہے۔آپ کا حضرت اقدس کے مکتوبات میں ذکر ہے۔ان مکتوبات سے آپ کی بیعت ۱۸۹۲ء کی معلوم ہوتی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود کے مکتوبات جو آپ نے حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی کے نام تحریر فرمائے ہیں آپ کا ذکر ملتا ہے ان کے نام مکتوبات میں حضور اکثر حضرت سیٹھ صالح محمد صاحب کو بھی سلام بھجواتے۔ایک مکتوب نمبر ۱۷ میں حضور فرماتے ہیں۔(مکتوبات احمد جلد دوم ص ۳۵۴) بخدمت مجھی سیٹھ صالح محمد صاحب السلام علیکم جو آپ نے کپڑے اور کڑے لڑکی کے لئے بھیجے تھے وہ سب پہونچ گئے ہیں باقی خیریت ہے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ حضور نے جب چندہ توسیع مسجد کی تحریک فرمائی تو حضرت سیٹھ صالح محمد صاحب نے چندہ حضور کی خدمت میں بھجوایا۔اسی طرح آپ نے حضور کی خدمت میں جاپان کا سفر اختیار کرنے کے متعلق استخارہ کی درخواست کی حضور نے فرمایا ” بعد سلام علیکم میری دانست میں سفر جاپان مناسب نہیں۔( مکتوب نمبر ۶)