تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 172
172 ہے۔اس میں سے مبلغ ۲۰ آنے ان کے نام قادیان میں بھیج دیں اور باقی ان کے صاحبزادہ کے نام سید محمد اسمعیل کو بمقام امروہہ شاہ علی سرائے روانہ فرما دیں۔نوٹ: ۱۹۱۶ء میں غیر مبائعین میں شامل ہو گئے اور نظام خلافت سے تعلق نہ رہا۔ماخذ : (۱) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱ (۲) مکتوبات احمدیہ مکتوب مورخه ۱۲ / دسمبر ۱۹۰۰ء (۳) اصحاب احمد جلد ہفتم حصہ اول۔☆ ۱۱۷۔جناب احمد حسن صاحب فرزند رشید مولوی محمد احسن صاحب امروہی بیعت : ابتدائی زمانہ میں تعارف: احمد حسن حضرت مولوی محمد احسن امروہی کے بیٹے تھے۔مزید سوانحی حالات دستیاب نہیں ہو سکے۔نوٹ : ۱۹۱۴ء میں غیر مبائعین میں شامل ہو گئے اور نظام خلافت سے تعلق نہ رہا۔ماخذ: ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلدا۔☆ ۱۱۸۔حضرت سیٹھ احمد صاحب عبدالرحمن حاجی اللہ رکھا تا جر مدراس بیعت : ۱۸۹۴ء تعارف و بیعت : حضرت سیٹھ احمد عبدالرحمن رضی اللہ عنہ مدر اس کے تاجر خاندان سے تھے۔آپ کا ذکر حضرت اقدس کے بعض مکتوبات میں ہے۔حضرت اقدس کے ان مکتوبات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی بیعت ۱۸۹۴ء کی ہے۔حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی کے نام بعض مکتوبات میں حضور نے حضرت سیٹھ احمد عبدالرحمن صاحب کا بھی ذکر کیا ہے۔حضرت سیٹھ صاحب کی اہلیہ بیمار ہوئیں حضور کو دعا کے لئے لکھا گیا تو حضور نے جواباً فرمایا عزیزی سیٹھ احمد عبدالرحمن صاحب کی اہلیہ کیلئے بھی دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ ہر ایک ابتلا سے بچاوے۔آمین۔( مکتوب نمبر ۴۲) خدا تعالی کی قدرت کہ تقریباً ایک سال بعد وہ وفات پاگئیں۔حضور نے حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی کے نام تحریر فرمایا: