تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 145 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 145

145 قاضیاں میں اپنی خاندانی مسجد میں حدیث کا درس دیا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل سے تعلق : حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ ان دنوں بھیرہ میں تھے اور اُن کی سخت مخالفت ہورہی تھی۔انہی دنوں آپ کی شادی حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب کی بھانجی سے ہوئی تھی۔آپ نے مدرستہ المسلین امرتسر میں ملازمت کا آغاز کیا۔بیعت : مئی ۱۸۹۳ء میں جنگ مقدس (مباحثہ پادری عبداللہ آتھم ) امرتسر کے دوسرے روز آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کی کہ میری دعوت منظور فرماویں حضرت نے آپ کی دعوت کو حضرت شیخ نور احمد صاحب کی منظوری پر رکھا۔حضرت قاضی صاحب نے دعوت کی حضرت اقدس نے منظوری دے دی۔اس دعوت کے بعد حضرت قاضی صاحب نے بیعت کر لی۔دینی خدمات : آپ امرتسر سے ملازمت چھوڑ کر تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان آگئے۔آپ کے شاگردوں میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی) اور حضرت میر محمد اسحاق شامل تھے۔”جمہیر الصوت“ ہونے کے با وجود کلام الہی کی تلاوت آہستہ آہستہ کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل آپ کی قرآن فہمی کی اکثر دارد یتے تھے۔اور ان کے قرآنی نکات کی قدر کرتے تھے۔آپ حضرت مسیح موعود کے عشق و محبت اور آپ کی اطاعت میں گداز تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو خدا تعالیٰ کی ایک آیت رحمت یقین کرتے تھے۔آپ کے تلامذہ میں سے حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب اور حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔آپ کے بعض علمی مضامین الحکم اور الفضل میں شائع ہوتے رہے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : آئینہ کمالات اسلام میں سالانہ جلسہ۱۸۹۲ء میں شریک ہونے والوں اور چندہ دہندگان میں ذکر ہے۔حضرت مصلح موعود کے تعلق : حضرت خلیفہ مسیح الثانی مصلح الموعو ے آپ کا تعلق استاد کی حیثیت سے تھا۔سے وفات: آپ نے ۲۴ / اگست ۱۹۳۰ء کو وفات پائی آپ کا وصیت نمبر ۲۱۲۵ ہے۔اور آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان میں ہوئی۔ماخذ: (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) رسالہ ” نوراحمد (۳) ذکر حبیب (۴) روزنانہ الفضل ۲۹ نومبر ۱۹۵۰ء (۵) تاریخ احمدیت بھیرہ۔