تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 144
144 خزائن جلد ۲ (۴) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۵) مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ۳ (۶) رجسٹر بیعت اولی مندرجہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحه ۳۴۲ (۷) صد ساله سوو نیئر جماعت کراچی ۱۹۸۹ء صفحه ۲۴۷ (۸) کراچی تاریخ احمدیت ☆ -۸۹۔جناب حافظ فضل احمد صاحب۔لاہور بیعت : ۲۷/ دسمبر ۱۸۹۱ء تعارف و بیعت : حافظ فضل احمد صاحب گجرات کے رہنے والے تھے۔آپ کے والد صاحب کا نام میاں نوراحمد صاحب تھا آپ کا ذکر رجسٹر بیعت میں ۲۷ / دسمبر ۱۸۹۱ء کی ہے جہاں آپ کی بیعت ۷۴ نمبر پر درج ہے جہاں پورا تعارف یوں ہے حافظ فضل احمد ولد میاں نوراحمد ساکن گجرات پنجاب حال وارد و ملازم دفتر ایگزامین ریلوے محلہ سیٹیاں دروازہ بھائی لاہور آفس میں کلرک ( رجسٹر بیعت اُولیٰ مندرجہ تاریخ احمدیت جلداول) حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے آسمانی فیصلہ میں جلسہ سالانہ ۱۸۹۱ء میں اور آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شامل ہونے والوں کی فہرست میں آپ کا نام درج فرمایا ہے نیز تحفہ قیصریہ، کتاب البریہ اور آریہ دھرم میں چندہ دہندگان جلسہ ڈائمنڈ جوبلی اور پر امن جماعت میں بھی ذکر ہے۔(نوٹ) آپ کا تعلق جناب شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر سے تھا۔خلافت اولی کے بعد نظام خلافت سے وابستہ نہ رہے اور غیر مبائعین میں شامل ہو گئے۔ماخذ : (۱) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد ۲ (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۳) تحفہ قیصر یہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۴) آریہ دھرم روحانی خزائن جلده ۱ (۵) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۶) لاہور تاریخ احمدیت (۷) رجسٹر بیعت اولی مندرجہه تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ ۳۵۶۔☆ ۹۰۔حضرت قاضی امیر حسین صاحب۔بھیرہ ولادت۔۱۸۴۸ء۔بیعت مئی ۱۸۹۳ء۔وفات ۲۴ راگست ۱۹۳۰ء تعارف: حضرت قاضی امیر حسین رضی اللہ عنہ بخاری سید تھے۔مغلوں کے عہد میں آپ کے آباء کو قاضی کا جلیل القدر عہدہ ملا تھا۔حصول تعلیم کا آغاز جوانی کے عالم میں ہوا۔اس سے قبل اپنے والد صاحب کے ساتھ گھوڑوں کی تجارت کرتے تھے۔سہارن پور کے مدرسہ مظہر العلوم سے تعلیم کی تکمیل کی۔جب واپس بھیرہ تشریف لائے تو محلّہ