تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 118
118 ۶۶۔حضرت شیر محمد خان صاحب بکہر ضلع شاہپور بیعت ابتدائی ایام میں تعارف و بیعت : حضرت شیر محمد خان رضی اللہ عنہ باہر ضلع شاہ پور ( حال ضلع سرگودھا) کے رہنے والے تھے موضع بکہر دریائے جہلم کے کنارے شاہ پور کے بالائی جانب ہے۔محمد ن کا لج علی گڑھ میں بی اے تک تعلیم حاصل کی۔آپ حضرت حافظ عبدالعلی صاحب ( یکے از ۳۱۳) کے ہم جماعت تھے۔اس لئے آپ کی بیعت ابتدائی زمانہ کی ہے۔نوٹ: آپ کے مزید تفصیلی حالات نہیں مل سکے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے کتاب البریہ میں آپ کا نام پر امن جماعت میں درج فرمایا ہے۔تحفہ قیصریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی میں شریک ہونے والوں میں نام درج ہے۔ماخذ: (۱) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۳) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلدا۔۶۷۔حضرت منشی محمد افضل صاحب لاہور حال ممباسہ ولادت : ۱۸۷۰ ء یا ۱۸۷۱ء۔بیعت: ابتدائی زمانہ۔وفات :۲۱ مارچ ۱۹۰۵ء تعارف و بیعت : حضرت منشی محمد افضل رضی اللہ عنہ لاہور کے رہنے والے تھے۔آپ با بومحمد افضل صاحب کے نام سے معروف تھے۔آپ کی ولادت سال ۱۸۷۰ء کی ہے یا ا۱۸۷ء کی۔اس لئے آپ کی بیعت بالکل ابتدائی زمانہ کی ہے۔کیونکہ ضمیمہ انجام آتھم میں آپ کا نام اصحاب صدق وصفا میں ۳۱ نمبر پر درج ہے اور اس کے بعد ۱۸۹۶ء میں ممباسہ (افریقہ ) بسلسلہ ملازمت ریلوے چلے گئے۔آپ کینیا یوگنڈا ریلوےConstruction کے سلسلہ میں مشرقی افریقہ پہنچے۔حضرت ڈاکٹر رحمت علی صاحب اور حضرت ڈاکٹر محمد اسمعیل گوڑیانی نے آپ کے ساتھ مل کر ایک یونین قائم کی جس کے سیکرٹری آپ ہی تھے۔آپ دوبارہ ۱۲ار فروری ۱۸۹۸ء میں ممباسہ گئے۔قادیان میں سکونت: ۱۹۰۲ء میں وہاں سے ریٹائر ہونے کے بعد قادیان میں سکونت پذیر ہو گئے۔اخبار البدر کے اجراء کی خدمت: ستمبر ۱۹۰۲ء میں ایک اخبار القادیان“ قادیان سے جاری کیا۔حضرت اقدس نے فرمایا ”ہماری طرف سے اجازت ہے خواہ ایک سو پر چہ جاری کریں۔اللہ تعالیٰ اس میں برکت دے