تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 116
116 بھیر مضلع شاہ پور (حال ضلع سرگودھا) میں ہوئی۔آپ کی تاریخ ولادت ۱۱؍ جنوری ۱۸۷۳ء ہے۔حضرت اقدس کا تذکرہ اور شرف بیعت حضرت مسیح موعود کا نام سب سے پہلے آپ نے بھیرہ میں ایک شخص حکیم احمد دین صاحب سے سنا اس وقت آپ کی عمر ۱۳ سال تھی۔اس سے قبل جب آپ کی عمر دس بارہ سال تھی آپ اپنے ساتھی لڑکوں کو کہا کرتے تھے کہ عجب زمانہ ہے کہ نہ کوئی اس زمانہ میں بادشاہ ہے اور نہ پچیمبر ہے۔آپ حضرت خلیفہ المسیح الاول کے عزیزوں میں سے تھے اور حضرت مولوی صاحب کے زیر سایہ جموں میں ہی تعلیم پائی۔۱۸۹۰ء میں جب پہلی بار آپ قادیان گئے تو حضرت اقدس کے نام حضرت حکیم مولانا نورالدین (خلیفہ امسیح الاول ) کا تعارفی رقعہ بھی ساتھ لے گئے۔اگلے روز صبح سیر کے دوران سید فضل شاہ صاحب نے چند سوال کئے۔آپ اس ملاقات کے تاثرات میں لکھتے ہیں کہ : میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ کیا چیز تھی جس نے مجھے حضرت صاحب کی صداقت کو قبول کرنے اور آپ کی بیعت کر لینے کی طرف کشش کی سوائے اس کے کہ آپ کا چہرہ مبارک ایسا تھا جس پر یہ گمان نہ ہوسکتا تھا کہ وہ جھوٹا ہو۔“ آپ نے ۳۱ / جنوری ۱۸۹۱ء کو بیعت کی۔رجسٹر بیعت اولی میں ۲۱۷ نمبر پر آپ کا نام درج ہے۔قادیان میں مستقل رہائش و خدمات دینیہ : ایک سرکاری عہدہ سے استعفیٰ دے کر آپ نے ۱۹۰۰ء میں قادیان میں مستقل رہائش اختیار کر لی۔حضرت مسیح موعود کی تحریک پر آپ نے لاہور میں ایک یہودی عورت تفاحہ (سیب) نامی کے ایک عزیز مسلمان سے عبرانی سیکھی جو بعد میں احمدی ہو گیا۔آپ پہلے مدرسہ احمدیہ میں استاد اور بعد ازاں ۱۹۰۳ء میں ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔۱۹۰۵ء میں منشی محمد افضل صاحب ایڈیٹرالبدر کی وفات پر ایڈیٹر مقرر ہوئے۔حضرت اقدس نے آپ کی تقرری پر فرمایا: اطلاع میں بڑی خوشی سے یہ چند سطریں تحریر کرتا ہوں کہ اگر چہ منشی محمد افضل صاحب مرحوم ایڈیٹر اخبار البدر بقضائے الہی فوت ہو گئے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے شکر اور فضل سے ان کا نعم البدل اخبار کو ہاتھ آ گیا ہے یعنی ہمارے سلسلہ کے ایک بزرگ رکن جوان صالح اور ہر ایک طور سے لائق جن کی خوبیوں کے بیان کرنے کے لئے ہمارے پاس الفاظ نہیں یعنی محمد صادق صاحب بھیروی قائمقام محمد افضل مرحوم ہو گئے ہیں۔میری دانست میں خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم سے اس اخبار کی قسمت جاگ اٹھی ہے کہ اس کا ایسالائق اور صالح ایڈیٹر ہاتھ آیا۔یہ کام ان کے لئے مبارک کرے اور ان کے کاروبار میں برکت ڈالے۔آمین۔خاکسار مرزا غلام احمد“ ( ریویو آف ریلیجنز ا پریل ۱۹۰۵ء) پھر جب البدر به سبب طلب ضمانت کے بند ہوا تو آپ بنگال، اڑیسہ، احمد آباد اور حیدرآباد میں مبلغ رہے۔مارچ ۱۹۱۷ء میں خدمت دین کے لئے انگلستان تشریف لے گئے۔جنوری ۱۹۲۰ء میں انگلستان سے امریکہ پہلے مبلغ کے طور پر پہنچے اور لمبا عرصہ خدمت کی توفیق پائی۔جہاں آپ نے The Muslim