تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 110 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 110

110 ☆ -۶۰ حضرت مولوی جمال الدین صاحب سید والا بیعت : ۱۸۸۹ء۔وفات :۲۲ جولائی ۱۹۰۵ء تعارف و بیعت : حضرت مولوی جمال الدین رضی اللہ عنہ سید والہ کے رہنے والے تھے۔اس وقت سیّد والا ضلع منٹگمری (ساہیوال) میں تھا اب ضلع ( ننکانہ صاحب ) میں ہے۔آپ ایک قافلہ کے ساتھ پیدل قادیان آئے۔حضور آپ کو قادیان میں بار بار آنے کی تاکید فرماتے رہتے۔آپ نے ۱۸۸۹ء میں حضرت اقدس کی بیعت کی۔حضرت میاں عبداللہ ٹھٹھہ شیر کا کی بیعت ( رجسٹر بیعت اولی نمبر ۱۴۸ ) آپ ہی کے ذریعے ہوئی تھی۔جون ۱۸۹۷ء قادیان جلسہ ڈائمنڈ جوبلی میں آپ کو پنجابی میں تقریر کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ، وو حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ ۱۸۹۲ء، تحفہ قیصریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جو بلی اور کتاب البریہ میں اپنی پُر امن جماعت کے ضمن میں ذکر ہے۔وفات : ۲۲ جولائی ۱۹۰۵ء کو آپ کی وفات ہوئی۔حضرت اقدس نے آپ کی نماز جنازہ غائب پڑھائی، آپ کی تدفین سید والہ میں ہوئی۔ایک مرتبہ دریائے راوی کے سیلاب سے آپ کی قبر متاثر ہورہی تھی کہ مقامی دوستوں نے دوسری جگہ میت کی تدفین کی۔۷ / دسمبر ۱۹۰۵ء کو حضور نے وفات پا جانے والے احباب کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرمایا۔سال گزشتہ میں ہمارے کئی دوست جدا ہو گئے۔مولوی جمال الدین سید والہ بھی ، مولوی شیر محمد ہو جن والے بھی، اللہ تعالیٰ نے اپنے ارادہ میں کوئی مصالح رکھے ہوں گے اس سال میں حزن کے معاملات دیکھنے ( ملفوظات جلد چہارم صفحه ۵۸۶) اولاد : آپ کے بیٹے مولوی نورالدین صاحب کے علاوہ بیٹیاں تھیں۔حضرت مولوی جمال الدین صاحب کے دو پوتے مولوی سراج الحق صاحب اور مولوی رمضان الحق صاحب تھے۔آپ کے ہر دو مذکورہ پوتوں سے اولاد ہے۔حضرت مولوی جمال الدین صاحب کے پوتے مولوی رمضان الحق صاحب کے نواسہ مکرم نوید الاسلام صاحب واقف زندگی ( والد مکرم مشتاق احمد بھٹہ صاحب ) معلم اصلاح و ارشاد مقامی ہیں۔حضرت مولوی جمال الدین صاحب کے ایک داماد حضرت مولوی عبدالحق صاحب بھی رفیق بانی سلسلہ تھے۔موصوف نوید الاسلام صاحب انہی کے پوتے ہیں۔ماخذ: (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۳) کتاب البریہ روحانی پڑے۔،،