تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 108 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 108

108 ہے۔آپ ان خوش قسمت احباب میں سے تھے جن کو حضرت مسیح موعود کے دعوی سے قبل حضور کی پاک صحبت سے مستفیض ہونے اور بار بار خدمت اقدس میں حاضر ہونے کا شرف ملا۔آپ کے حضرت اقدس کے ساتھ بے تکلفانہ مراسم تھے۔حضور نے کئی بار ان کی اقتداء میں نماز پڑھی۔تہجد کے لیے بیدار ہونے کے لئے کئی بار حضور کے کمرے میں سورہتے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء، آریہ دھرم، تحفہ قیصریہ میں ڈائمنڈ جوبلی ،سراج منیر میں چندہ مہمان خانہ اور کتاب البریہ میں پُر امن جماعت کی فہرست میں نام درج ہے۔وفات: آپ نے ۲۷ دسمبر ۱۹۴۶ء کو وفات پائی۔آپ کی وصیت نمبر ۲۶۷ ہے اور آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان قطعہ نمبر ۵ حصہ نمبرے میں ہوئی۔اولاد : آپ کے ایک بیٹے کا نام حضرت اقدس نے رحمت اللہ رکھا جو بعد میں رحمت اللہ شاکر کے نام سے مشہور ہوئے اور نامور صحافی بنے۔اسسٹنٹ ایڈیٹر الفضل اور مینیجر الفضل کے طور پر ربع صدی خدمت کرتے رہے۔ان کی تالیف مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے بہت معروف ہے۔آپ کے ایک پوتے مکرم صبغت اللہ صاحب ( ابن مکرم رحمت اللہ شاکر صاحب مرحوم) سیالکوٹ میں وکیل ہیں۔آپ کے ایک نواسے ملک خالد محمود صاحب لندن میں مقیم ہیں۔ماخذ: (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۳) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۴) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۵) آریہ دھرم روحانی خزائن جلد۱۰ (۶) اصحاب احمد جلد ۱۳ (۷) مضمون ” حضرت حافظ نور محمد صاحب ، مطبوعہ روز نامہ الفضل ارمئی ۲۰۰۱ء (۷) تاریخ احمدیت جلد دہم (۸) رجسٹر بیعت اولی مندرجہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحه ۳۵۱۔☆ ۵۹۔حضرت شیخ نور احمد صاحب۔۔۔امرتسر ولادت: ۱۸۳۹ء۔بیعت : یکم فروری ۱۸۹۲ء۔وفات ۸/ جون ۱۹۲۸ء تعارف: حضرت شیخ نور احمد رضی اللہ عنہ کے والد کا نام شیخ بہادر علی صاحب تھا۔آپ ۱۸۳۹ء میں پیدا ہوئے آپ میرٹھ میں رہتے تھے۔آپ اخبار ” لوح محفوظ مراد آباد میں پریس میں تھے۔آپ کا پی لکھنے کی سیاہی اچھی بناتے تھے جوامرتسر کے اخبار وکیل میں بھی استعمال ہوتی تھی اس کے مینجر پادری رجب علی نے آپ کو امرتسر بلوالیا۔حضرت اقدس سے تعلق : براہین احمدیہ جس پریس میں شائع ہوئی اس کے کارکنان میں سے بھی سعید روحوں کو ہدایت نصیب ہوئی۔حضرت مسیح موعود نے براہین احمدیہ کی طباعت کے لئے مطبع ” سفیر ہند امرتسر میں انتظام کیا