تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 88
88 چندہ دہندگان، تحفہ قیصریہ میں ڈائمنڈ جوبلی میں شرکت کرنے والوں اور سراج منیر اور کتاب البریہ میں پُرامن جماعت میں آپ کا ذکر کیا ہے۔کتاب من الرحمن میں حضرت اقدس نے اشتراک السنہ میں جاں فشانی کرنے والوں کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے آپ کا بھی ذکر فرمایا ہے۔وفات : حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی وفات کے بعد مبائعین خلافت سے وابستہ نہ رہے اور احمد یہ انجمن اشاعت اسلام، لاہور کے ساتھ شامل ہو گئے۔۴ را پریل ۱۹۳۸ء کو عمر ۷۸ سال وفات پائی۔ماخذ : (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد نمبر ۳ (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد نمبر ۵ (۳) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد نمبر ۲ (۴) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۲ (۵) سراج منیر روحانی خزائن جلد نمبر ۱۲ (۶) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۳ (۷) رجسٹر بیعت اولی مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد اصفحه ۳۴۶ (۸) من الرحمن روحانی خزائن جلد نمبر ۹ (۹) یا درفتگان صفحه ۳۹۵ تا ۴۱۰ (۱۰) تاریخ احمدیت جلد هشتم صفحه ۴۳۴ (۱۱) عسل مصفی جلد دوم صفحه ۴۸۹ ☆ ۴۳۔حضرت سردار نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ ولادت یکم جنوری ۱۸۷۰ء۔بیعت ۱۹ نومبر ۱۸۹۰ء۔وفات ۱۰ر فروری ۱۹۴۵ء تعارف: حضرت نواب محمد علی خاں رضی اللہ عنہ کے مورث اعلیٰ شیخ صدر الدین جلال آباد کے باشندہ تھے۔شیروانی قوم کے پٹھان تھے جو ۱۴۶۹ ء میں سلطنت بہلول لودھی کے زمانہ میں اپنے وطن سے ہندوستان میں آئے اور ایک قصبہ آباد کیا جس کا نام مالیر کوٹلہ ہے۔آپ کے والد ماجد کا نام نواب غلام محمد خاں صاحب تھا۔تعلیم : ابتدائی تعلیم چیفس کا لج ( انبالہ والا ہور) سے حاصل کی۔آپ ۱۸۸۷ء سے ۱۸۹۴ء تک محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس سے وابستہ رہے۔اور آپ نے علی گڑھ کے مشہور سٹریجی ہال کی تعمیر میں پانچ صد روپیہ چندہ دیا۔حضرت اقدس سے تعلق اور بیعت : حضرت اقدس مسیح موعوڈ سے خط و کتابت کا آغاز آپ کے استاد مولوی عبد اللہ فخری کاندھلوی ( بیعت ۴ رمئی ۱۸۸۹ء) کی تحریک سے ہوا۔حضرت نواب صاحب اپنے ایک خط میں حضرت اقدس مسیح موعود کو لکھتے ہیں۔ابتداء میں گو میں آپ کی نسبت نیک ظن ہی تھا لیکن صرف اس قدر کہ آپ اور علماء اور مشائخ ظاہری کی طرح مسلمانوں کے تفرقہ کے موید نہیں ہیں۔بلکہ مخالفان اسلام کے مقابل پر کھڑے ہیں۔مگر الہامات کے بارے میں مجھ کو نہ اقرار تھا اور نہ انکار۔پھر جب میں معاصی سے بہت تنگ آیا اور ان پر غالب نہ ہو سکا تو میں نے سوچا کہ آپ نے بڑے دعوے کئے ہیں۔یہ سب جھوٹے نہیں ہو سکتے۔تب میں نے