تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 87
87 وفات: آپ کی وفات ۲۸ / پریل ۱۹۰۰ء کو ہوئی آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان قطعہ نمبر ۲ حصہ نمبر ۵ میں ہوئی۔ماخذ : (۱) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلدا اصفحه ۳۱ (۲) نور القرآن نمبر۲ روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۵ ۲۵ (۳) تحفه قیصریہ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۲ (۴) ملفوظات جلد اول و دوم (۵) لا ہور تاریخ احمدیت صفحه ۱۳۷ (۶) آئینه صدق و صفا سیرت حضرت مرزا ایوب بیگ (1) ذکرِ حبیب‘ (۷) رجسٹر بیعت اولی از تاریخ احمدیت جلد ا صفحه ۳۵۸ - ☆ ۴۲۔جناب میرزا خدا بخش صاحب جھنگ ولادت: ۱۸۵۹ء۔بیعت : ۲۴ / مارچ ۱۸۸۹ء۔وفات : ۵/اپریل ۱۹۳۷ء تعارف: مرزا خدا بخش جھنگ شہر میں مرزا مراد بخش صاحب کے گھر ۱۸۵۹ء میں پیدا ہوئے۔محلہ باغوالہ جھنگ سے آپ کا تعلق تھا۔بی ایسے گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا۔ہائی کورٹ لاہور میں بطور مترجم ملازمت مل گئی۔حضرت اقدس سے تعلق : حضرت اقدس کے مجدد و صیح و مہدی ہونے کے دعوئی کا ذکر اپنے بڑے بھائی مرزا غلام عیسی سے سنا جو امرتسر میں سب پوسٹ ماسٹر تھے۔آپ کو حضور سے ملاقات کا شوق پیدا ہوا۔چنانچہ چھ روز تک قادیان میں قیام کیا۔اس بارے میں آپ نے ایک جگہ لکھا: ان ( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام۔ناقل ) کی صورت اور ان کے چہرے کو دیکھ کر میری فطرت نے گواہی دی کہ یہ منہ جھوٹ بولنے والا نہیں ان کی تقریر میں وہ تاثیر تھی کہ بجلی کی طرح دلوں کے اندر ھستی چلی جاتی تھی تحریر میں وہ زور کہ ان کے قلم کے مقابلہ میں تمام اقلام تم ہوئے جاتے ہیں۔ان کی چند روزہ صحبت اکسیر کا حکم رکھتی تھی ان کے ساتھ نماز پڑھنے سے ایک خاص سرور ولذت حاصل ہوتی تھی۔“ ( عسل مصفی جلد دوم ) بیعت: رجسٹر بیعت کے مطابق ۶۴ نمبر پر آپ کی بیعت درج ہے۔جو ۲۴ مارچ ۱۸۸۹ء کی ہے۔دینی خدمات : آپ نے حضرت اقدس کے اخلاق کریمہ سے متاثر ہو کر سرکاری ملازمت چھوڑ دی۔حضرت اقدس نے مکان کے ایک حصہ میں آپ کو جگہ دی۔حضرت مسیح موعود کے فیض روحانی کے پھیلانے کے لئے ہندوستان کے مختلف شہروں میں جا کر آپ نے علماء سے مباحثے کئے۔آپ کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ ان کی کتاب «عسل مصفی کی تصنیف ہے۔اسے حضرت مسیح موعود نے تین ماہ تک مغرب سے عشاء تک سنا اور اظہار خوشنودی فرمایا۔یہ کتاب دو جلدوں میں ہے اور چودہ سو صفحات پر مشتمل ہے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : ازالہ اوہام میں آپ کا ذکر صاف باطن اور ہمدردی اسلام کا جوش رکھنے والوں میں ہے۔آسمانی فیصلہ میں پہلے جلسہ میں شامل ہونے والوں ، آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ ء اور