تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page x
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ـ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ـ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعَوْدِ عرض حال احمدیت ایک مذہبی تحریک کا نام ہے جس کی بنیاد حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کے حکم سے 1889ء بمطابق 1306ھ میں رکھی جس طرح دو ہزار سال قبل حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے ذریعہ تجدید و احیاء دین کی تحریک کا ظہور ہوا اور یہ امر واقعہ ہے کہ احمدیت کسی نئے مذہب کا نام نہیں اور نہ ہی حضرت بانی سلسلہ احمد یہ ایسے دعوئی کے مدعی تھے کہ آپ کوئی جدید شریعت لائے ہیں۔بلکہ تحریک احمدیت کی غرض و غایت اشاعت دین حق ہے۔آپ اصلاح خلق اور تزکیہ نفوس کیلئے آئے اور اس کی خبر سورۃ الجمعہ آیت " میں وَ آخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ میں دی گئی تھی۔سورۃ الجمعہ کے نزول کے وقت اس آیت کے بارہ میں آنحضرت ﷺ نے امتِ مسلمہ کو یہ نوید سنائی لو كَانَ الايْمَانُ عِنْدَ التَّريَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ اَوْ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلاءِ کہ اگر ایمان ( زمین سے دور ) ثریا ستارہ پر بھی ہوگا تو اسے دوبارہ زمین پر قائم کرنے وجود ظاہر ہوں گے۔اس عظیم الشان غلبہ دین کے لئے آپ نے یہ خوشخبری بھی دی كَيْفَ تَهْلِكُ أُمَّةٌ أَنَا فِي أَوَّلِهَا وَالْمَسِيحُ فِي آخِرِهَا ، یعنی میری امت کیسے ہلاک ہو سکتی ہے کہ میں جس کے ابتداء میں ہوں اور اس کے آخری دور میں مسیح موعود ہوگا اور پھر یہ خبر بھی دی کہ ظہور مہدی اور مسیح موعود کے ذریعہ ہی دین حق کی نشاۃ ثانیہ ہوگی اور اسے دور اول کی شان و شوکت حاصل ہوگی۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کی دین حق کی عظمت و شان کے قیام اور باطل دجالی طاقتوں کے خلاف دفاع کیلئے آپ کو تصنیف براہین احمدیہ ( 1880ء تا 1884ء) کے دوران مارچ 1882ء میں وہ تاریخی الہام ہوا جس کا آپکے دعوئی ماموریت سے تعلق تھا اور خدا تعالیٰ نے آپ کو اپنا مامور کہہ کر مخاطب فرمایا: يَا أَحْمَدُ بَارُكَ اللهُ فِيكَ - مَارَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى - الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أُنْذِرَ ابَاتُهُمْ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ۔قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ۔۔۔۔۔(براہین احمدیہ حصہ سوم روحانی خزائن جلد اول صفحه 265) اے احمد! اللہ نے تجھے برکت دی ہے پس جو وار تو نے دین کی خدمت کے لئے چلایا ہے وہ تو نے نہیں چلایا بلکہ در اصل خدا نے چلایا ہے۔خدائے رحمن نے تجھے قرآن کا علم عطا کیا ہے تا کہ تو لوگوں کو ہوشیار کرے جن کے باپ دادے ہوشیار نہیں کئے گئے اور تا مجرموں کا راستہ واضح ہو جائے۔لوگوں سے کہہ دے کہ مجھے خدا کی طرف سے مامور کیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے مامور ہونے کا اعلان فرمایا مگر ابھی تک آپ کو بیعت لینے کا اذن نہ ہوا تھا اور آپ بدستور اعلائے کلمہ الحق میں مصروف رہے۔پھر 1888ء کے آخر میں آپ نے خدا تعالیٰ سے